حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت آیت اللہ جوادی آملی نے دفاع مقدس کے زمانہ کا قاجار اور پہلوی حکومتوں کے ادوار سے تاریخی موازنہ کرتے ہوئے کہا: گزشتہ ادوار میں ہزاروں ہیکٹر ملکی اراضی انتہائی مختصر مدت میں لوٹ لی گئی لیکن مجاہدین نے آٹھ سال تک ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کو اس سرزمین کا ایک بالشت حصہ بھی قبضے میں لینے نہیں دیا۔

آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی:
ہفتۂ دفاع مقدس کے دوران (شہداء و مجاہدین کی) جو تکریم و تعظیم کی گئی ہے، وہ بالکل بجا ہے اور اسے کئی گنا زیادہ کیا جانا چاہیے۔
قاجار سے پہلوی دور تک ہزاروں ہیکٹر اراضی غیروں نے لوٹ لی۔ قاجار سے پہلوی دور تک اس سرزمین کی ہزاروں ہیکٹر زمین، خواہ آباد ہو یا غیر آباد، شہر ہو یا گاؤں، بیگانوں نے انتہائی مختصر مدت میں لوٹ لی۔
لیکن یہاں آٹھ سال تک جنگ کی آگ بھڑکتی رہی اور دشمن ہماری سرزمین کا ایک بالشت بھی حاصل نہ کر سکا!
میں نے میدان عرفات میں ایک جانباز مجاہد کو دیکھا جس نے اپنے دونوں ہاتھ اور دونوں آنکھیں خدا کی راہ میں پیش کر دی تھیں۔ وہ آنسو بہاتے ہوئے کہہ رہا تھا: ’’خدایا! اسے مجھ سے قبول فرما اور مجھ سے درگزر فرما۔‘‘
جنت ایسے مخلص بسیجیوں کی مشتاق ہے۔ ان لوگوں نے اس ملک کو عزت بخشی اور دین کو زندہ کیا۔










آپ کا تبصرہ